اکابر کا مشتبہ چندے سے احتراز

اکابر کا مشتبہ چندے سے احتراز

دارالعلوم دیوبند میں ممبئی کے ایک سیٹھ آئے تھے، لکھ پتی لوگوں میں سے تھے، دارالعلوم کو دیکھا، بہت خوش ہوئے، پسند کیا، اور اعلان کیا کہ پچیس ہزار روپیہ (۔؍۲۵۰۰۰) بھیجوں گا تو ہمارے بزرگوں نے اس کے اوپر کوئی زیادہ خوشی کا اظہار نہیں کیا جیسے مثلاً یہ ہوتا کہ انہوں نے اعلان کیا تھا تو اس پر کوئی شکریہ ادا کیا جاتا، یا کوئی دُعائیہ کلمات کہے جاتے، جس سے ان کا دل بڑھتا، بس چپ ہوکر بیٹھ گئے تو مجھے بڑی حیرت ہوئی کہ اس بے چارے نے تو کتنی جی داری کا ثبوت دیا۔
پچیس ہزار … یہ آج سے پینتالیس برس پہلے کی بات ہے۔ پینتالیس برس پہلے پچیس ہزار کی قیمت ایسی ہی ہے جیسے اسّی ہزار … پھر دینی مدارس میں پچیس ہزار کی رقم آئے تو ان کے مصارف تھوڑے ہوتے ہیں۔ اس لیے بلحاظِ مصارف وہ رقم بہت تھی۔ تو بظاہر ان کا کوئی شکریہ یا دُعاء وغیرہ کے کلمات یا خوشی کا کچھ غیرمعمولی اظہار ہوتا، سارے ہی چپ بیٹھ گئے۔
مجھے بڑی حیرت ہوئی۔ خیر وہ سیٹھ صاحب اعلان کرکے چلے گئے۔ ایک مہینہ گزرا، دو مہینے گزرے، میں نے مولانا حبیب الرحمن صاحب رحمتہ اللہ علیہ سے عرض کیا کہ آپ نے یاددہانی نہیں فرمائی۔ دارالعلوم کو اگر اتنی رقم مل جاتی تو دارالعلوم کے بہت سے کام چلتے۔ ایک شخص نے وعدہ کیا، اعلان کیا کم سے کم وعدہ کی یاددہانی فرمادیں، میری بات سن کر وہ خاموش ہوگئے۔ پھر مجھے حیرت ہوئی کہ اس شخص کو نہ شکریہ نہ دُعا دی اور اب بھی یاد دہانی کے لیے کہہ رہا ہوں تو بھی چپ … پھر میں نے کسی دوسرے وقت یاددہانی کرائی کہ کم سے کم ایک خط تو لکھ دیں کہ بھائی یہ رقم بھیج دے۔ اس وقت کچھ منہ بنا کر فرمایا کہ ’’یہ رقم دارالعلوم میں آ نہیں سکتی۔‘‘ … میں نے کہا آخر کیوں؟ فرمایا:۔
ان کا سارا کام سود بٹے پر چلتا ہے۔ آبکاری کے محکمے میں ان کی ملازمت ہے اور اسی قسم کی ان کی ساری کمائی ہے۔ وہ کمائی یہاں نہیں آئے گی، نہ یہاں چلے گی اور نہ انہیں بھیجنے کی توفیق ہوگی، ہم کیوں یاددہانی کرائیں؟ اس وقت میرے ذہن میں آیا کہ ان حضرات کو ہمیشہ ایسی کمائی کا چندہ قبول کرنے سے انکار رہتا تھا جس کو یہ مشتبہ سمجھتے تھے اور وہ اس بنا پر کہ اگر وہ چندہ صرف کیا گیا تو طلباء پر بھی وہی اثر پڑے گا ، ان کے علم میں برکت نہیں رہے گی، ان کی معرفت ختم ہو جائے گی، اس واسطے گریز کرتے تھے۔ (وعظ علمی معجزہ جلد 6)

اگرآپ کو یہ واقعہ پسند آیا ہے تو اسکو شئیر ضرور کریں اور اس طرح کے دیگر اسلامی واقعات اور اولیاء اللہ کے حالات و تذکرے آپ ہمارے ویب سائٹ
https://readngrow.online
پر بالکل مفت میں پڑھ سکتے ہیں ۔
تمام اسلامی مواد اور دیگر کیٹگریز کو دیکھنے کے لئے یہ لنک وزٹ کریں
https://readngrow.online/readngrow-categories/
نیز ہم اس ویب سائٹ کی مفید چیزوں کو اس واٹس ایپ چینل پر بھی شئیر کرتے رہتے ہیں ۔
https://whatsapp.com/channel/0029VaviXiKHFxP7rGt5kU1H
یہ چینل فالو کرلیں ۔

Most Viewed Posts

Latest Posts

ایک گنہگار کو توبہ کی توفیق

ایک گنہگار کو توبہ کی توفیق ایک واقعہ سنئے! سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں ایک نوجوان کو گناہ کی عادت تھی۔ لوگوں نے بات موسیٰ علیہ السلام تک پہنچائی، حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس کو بلا کر سمجھایا۔ وہ پھر بھی مرتکب ہو گیا، پھر سمجھایا، پھر مرتکب ہو گیا۔ حضرت...

read more

خواب ہدایت کا ذریعہ بنا

خواب ہدایت کا ذریعہ بنا ہم ایک دفعہ رشیا گئے ، ماسکو میں ایک نوجوان ملا، اس سے بات ہوئی تو اس نے کہا کہ کلمہ پڑھایئے، ہم نے کلمہ پڑھا دیا اور وہ مسلمان بن گیا۔ اس نے کہا کہ میں بائیس گھنٹے کی مسافت سے آیا ہوں، ہمارا ایک کلب ہے ’’ پریذیڈنٹ کلب‘‘ جس میں پینتالیس مرد...

read more

ایک گنہگار کو توبہ کی توفیق

ایک گنہگار کو توبہ کی توفیق ایک واقعہ سنئے! سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں ایک نوجوان کو گناہ کی عادت تھی۔ لوگوں نے بات موسیٰ علیہ السلام تک پہنچائی، حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس کو بلا کر سمجھایا۔ وہ پھر بھی مرتکب ہو گیا، پھر سمجھایا، پھر مرتکب ہو گیا۔ حضرت...

read more