اپنے تقدس کے دلیل کی مثال
ملفوظاتِ حکیم الامت مجدد الملت حضرت مولانا محمد اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ
ارشاد فرمایا کہ بعض لوگ اگر کسی کے معتقد ہوجائیں تو وہ ان کو اپنے تقدس کی گویا دلیل سمجھتا ہے۔ پھر یہ مثال بیان فرمائی کہ ایک مرتبہ کسی مکتب کے لڑکوں نے استاد صاحب سے چھٹی لینا چاہی تو یہ ترکیب نکالی کہ سب چل کر ان کی مزاج پرسی کریں۔ چنانچہ ایک لڑکا گیا کہ آج آپ کی طبیعت ناساز معلوم ہوتی ہے۔ استاد صاحب نے جھڑک دیا کہ میں تو تندرست ہوں، دوسرے نے آکر کہا کہ کیا بات ہے کہ آج آپ کا چہرہ اُترا ہوا معلوم ہوتا ہے۔ غرض متواتر کئی لڑکوں نے کہا تو استاد صاحب نے کہا کہ تم پڑھو، میں ساتھ والے کمرے میں لیٹتا ہوں۔ لڑکوں کے کہنے سے استاد صاحب کے سر میں مصنوعی درد تو ہو گیا تھا، جب لڑکوں نے چلا چلا کر پڑھنا شروع کیا تو واقعی درد میں ترقی محسوس ہونے لگی۔ چنانچہ مجبور ہو کر سب کو چھٹی دے دی تو جس طرح معلم سب معتقدین کے کہنے سے مبتلائے وہم مرض جسمانی ہو گیا تھا ایسے ہی ان کو سب معتقدین کے کہنے سے مبتلائے مرض نفسانی(اپنے کو مقدس سمجھنا) ہوگیا۔
نوٹ:- یہ ملفوظات ڈاکٹر فیصل صاحب (خلیفہ شیخ الحدیث حضرت مولانا عبدالمتین بن حسین شاہ صاحب دامت برکاتہم العالیہ) نے انتخاب فرمائے ہیں۔ اور انکو حضرت مولانا محمد زبیر صاحب (فاضل جامعہ دارالعلوم الاسلام لاہور 2023) نے تحریر فرمایا ہے ۔
یہ ملفوظات آپ ہماری ویب سائٹ
https://readngrow.online
پر بالکل مفت میں پڑھ سکتے ہیں ۔
براہ مہربانی یہ پوسٹ اپنے واٹس ایپ اور دیگر سوشل میڈیا پر شئیر کریں ۔

