اِبلیس کی گمراہی کا سبب
یہ بات قابل غور ہے کہ ابلیس علم و معرفت میں یہ مقام رکھتا تھا کہ اس کو طائوس الملائکہ کہا جاتا تھا۔۔۔ پھر اس سے یہ حرکت (سجدہ نہ کرنے کی) کیسے صادر ہوئی؟ بعض علماء نے فرمایا ہے کہ اس کے تکبر کے سبب سے اللہ تعالیٰ نے اس سے اپنی دی ہوئی معرفت اور علم و فہم کی دولت سلب کرلی۔۔۔ اس لیے ایسی جہالت کا کام کربیٹھا۔۔۔ بعض نے فرمایا ہے کہ حب جاہ اور خود پسندی نے حقیقت شناسی کے باوجود اس بلا میں گرفتار کردیا۔۔۔
روح المعانی میں اس سے یہ ثابت کیا ہے کہ انسان کا ایمان وہی معتبر ہے جو آخر عمر میں اور اوّل منازل آخرت تک ساتھ رہے۔۔۔ موجودہ ایمان و عمل اور علم و معرفت پر غرہّ نہ ہونا چاہیے۔۔۔ (معارف القرآن ص:۱۹۰، ج:۱)
