اُصولِ اسلام کی حفاظت کی فکر کریں
فروعی اور اجتہادی مسائل میں بحث و تمحیص گو مذموم چیز نہیں۔۔۔۔ اگر وہ اپنی حد کے اندر اخلاص سے اللہ کے لیے ہوتی۔۔۔۔ لیکن جہاں ہم اسلام و ایمان کی بنیادیں متزلزل کر دینے والے فتنوں کی خبر سنتے ہیں۔۔۔۔ اللہ و رسول کے احکام کی خلاف ورزی بلکہ استہزاء و تمسخر اپنی آنکھوں سے دیکھتے اور کانوں سے سنتے ہیں۔۔۔۔ مگر ہمارے کان پر جوں تک نہیں رینگتی تو اس کی کیا توقع کی جا سکتی ہے کہ یہ فروعی بحثیں ہم اخلاص کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے لیے کر رہے ہیں۔۔۔۔
اگر ان میں کچھ للہیت اور اخلاص ہوتا تو ہم ان حالات کے تحت اسلام اور دین کے تقاضوں کو پہچانتے اور فروع سے زیادہ اصول اسلام کی حفاظت میں لگے ہوتے۔۔۔۔ ہم نے تو گویا علمی اور دینی خدمات کو انہیں فروعی مباحث میں منحصر سمجھ رکھا ہے اور سعی و عمل کی پوری توانائی اسی پر لگا رکھی ہے۔۔۔۔
اسلام کے اصولی اور بنیادی مسائل اور ایمان کی سرحدوں کو دشمنوں کی یلغار کے لیے خالی چھوڑ دیا ہے۔۔۔۔ لڑنا کس محاذ پر چاہیے تھا اور ہم نے طاقت کس محاذ پر لگا دی۔۔۔۔ ’’اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رٰجِعُوْنَ‘‘ یہ تو تخریب و تعصب کے غلو کا نتیجہ ہے۔۔۔۔
اسی کے ساتھ دوسری بھاری غلطی ان اجتہادی مسائل میں اختلاف کے حدود کو توڑ کر تفرق و تشتت اور جنگ و جدل اور ایک دوسرے کے ساتھ تمسخر و استہزاء تک پہنچ جانا ہے، جو کسی شریعت و ملت میں روا نہیں اور افسوس ہے کہ یہ سب کچھ خدمت علمِ دین کے نام پر کیا جاتا ہے اور جب یہ معاملہ ان علماء کے متبعین عوام تک پہنچتا ہے تو وہ اس لڑائی کو ایک جہاد قرار دے کر لڑتے ہیں اور یہ ظاہر ہے کہ جس قوم کا جہاد خود اپنے ہی دست و بازو سے ہونے لگے اس کو کسی غنیم کی مدافعت اور کفر و الحاد کے ساتھ جنگ کی فرصت کہاں۔۔۔۔ (وحدت امت: ۲۹،۳۰)۔۔۔۔
