انسان کو کام میں لگنا چاہیے
ملفوظاتِ حکیم الامت مجدد الملت حضرت مولانا محمد اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ
ارشاد فرمایا کہ انسان کو کام میں لگنا چاہیے ، اس کی ضرورت نہیں کہ نفع کا ہونا بھی اس کو معلوم ہو۔ اس کی ایسی مثال ہے کہ بچہ کم سن ہے اور باپ اس کی طرف سے بینک میں روپیہ جمع کر دے تو وہ بچہ مالک ہو جاوے گا مگر مالک ہونے کے لیے اس کا معلوم ہونا شرط نہیں ، جب آمدنی تقسیم ہونے لگے گی اس وقت معلوم ہو جاوے گا ۔ اسی طرح عمل کا نفع یہاں اگر سمجھ میں نہیں آیا تو وہاں آخرت میں سمجھ لو گے۔ یہاں تو کام میں لگے رہو ۔ نفع برابر واقع ہورہا ہے، وہاں دیکھو گے اور تم یہاں ہی نفع کو معلوم کرنا چاہتے ہو تو کیا دنیا کے نفع کے واسطے کام کر رہے ہو جو دنیا میں نفع کے طالب ہو۔ جہاں کے لیے کام کر رہے ہو وہاں اس کا نفع دیکھنا ، ان شاء اللہ تعالیٰ خزانہ بھرپور ملے گا۔ یہاں کے نفع کے متلاشی تو کفار ہوتے ہیں جن کو آخرت میں کوئی امید نہیں ۔ ان کی مطلوبہ اور محبوبہ محض دنیا ہی ہے، ان کو آخرت میں کچھ نہ ملے گا۔
نوٹ:- یہ ملفوظات ڈاکٹر فیصل صاحب (خلیفہ عبدالمتین شاہ صاحب دامت برکاتہم العالیہ) نے انتخاب فرمائے ہیں۔ اور انکو حضرت مولانا محمد زبیر صاحب (فاضل جامعہ دارالعلوم الاسلام لاہور 2023) نے تحریر فرمایا ہے ۔
یہ ملفوظات آپ ہماری ویب سائٹ
https://readngrow.online
پر بالکل مفت میں پڑھ سکتے ہیں ۔
براہ مہربانی یہ پوسٹ اپنے واٹس ایپ اور دیگر سوشل میڈیا پر شئیر کریں ۔

