امانت کو اللہ تعالیٰ کے سپرد کرنے کا عجیب واقعہ
علامہ دمیری رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: بہت سی کتابوں میں یہ روایت دیکھی ہے جس کو زید بن اسلم نے اپنے والد کے حوالہ سے نقل کیا ہے۔ کہتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ بیٹھے ہوئے لوگوں سے مخاطب تھے تو ایک شخص اپنا لڑکا ساتھ لیے ہوئے حاضر مجلس ہوا ‘ اس کو دیکھ کر حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نے نہیں دیکھا کسی کو ے کو جو زیادہ مشابہ ہو اس کوے سے‘ یعنی ایک کوا دوسرے کوے سے جیسی مشابہت رکھتا ہو ایسی مشابہت باپ اور بیٹے میں ہے۔
اس شخص نے جواب دیا کہ اے امیرالمؤمنین ! اس لڑکے کو اس کی والدہ نے اس وقت جنم دیا جب کہ وہ مرچکی تھی۔ یہ سن کر حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ سیدھے ہوکر بیٹھ گئے اور فرمایا کہ اس بچے کا قصہ مجھ سے بیان کرو۔ چنانچہ اس شخص نے کہا کہ اے امیرالمؤمنین! ایک مرتبہ میں نے سفر کا ارادہ کیا اس وقت اس کی والدہ کو اس کا حمل تھا‘ اس نے مجھ سے کہا کہ تم اس حال میں مجھ کو چھوڑ کر جارہے ہو کہ میں حمل کی وجہ سے بوجھل ہورہی ہوں‘ میں نے کہا: ’’اَسْتَوْدِعُ اللّٰہَ مَا فِیْ بَطْنِکِ‘‘ میں اس بچہ کو جو تیرے بطن میں ہے اللہ تعالیٰ کے سپرد کرتا ہوں۔
یہ کہہ کر میں سفر پر روانہ ہوگیا اور کئی سال کے بعد گھر واپس آیا تو گھر کا دروازہ مقفل پایا‘ اوروں سے معلوم کیا کہ میری بیوی کہاں ہے؟ انہوں نے کہا کہ اس کا انتقال ہوگیا‘ میں نے ’’اِنَّا لِلّٰہِ‘‘ پڑھا۔ اس کے بعد اپنی بیوی کی قبر پر گیا۔ میرے چچا زاد بھائی میرے ساتھ تھے‘ میں کافی دیر تک قبر پر رُکا رہا اور روتا رہا‘ میرے بھائی نے مجھے تسلی دی اور واپسی کا ارادہ کیا اور مجھے لانے لگے‘ چند گز ہی ہم چلے ہوں گے کہ مجھے قبرستان میں ایک آگ نظر آئی‘ میں نے اپنے چچا زاد بھائی سے پوچھا: یہ آگ کیسی ہے؟
انہوں نے کہا کہ یہ آگ روزانہ رات کے وقت بھابی مرحومہ کی قبر میں نمودار ہوتی ہے‘ میں نے یہ سن کر ’’اِنَّا لِلّٰہِ‘‘ پڑھا اور کہا: عورت بہت نیک اور تہجد گزار تھی تم مجھے دوبارہ اس قبر پر لے جائو۔ چنانچہ وہ مجھے قبر پر لے گئے‘ جب میں قبرستان میں داخل ہوا تو میرے چچا زاد بھائی وہیں ٹھٹھک گئے اور میں تنہا اپنی مرحومہ بیوی کی قبر پر پہنچا تو کیا دیکھتا ہوں کہ قبر کھلی ہوئی ہے اور بیوی بیٹھی ہے اور یہ لڑکا اس کے چاروں طرف گھوم رہا ہے‘ ابھی میں اس طرف متوجہ تھا کہ ایک غیبی آواز آئی کہ اللہ تعالیٰ کو اپنی امانت سپرد کرنے والے! اپنی امانت واپس لے لے اور اگر تو اس کی والدہ کو بھی اللہ تعالیٰ کے سپرد کرتا تو وہ بھی تجھ کو مل جاتی‘ یہ سن کر میں نے لڑکے کو اُٹھالیا‘ میرے لڑکے کو اُٹھاتے ہی قبر برابر ہوگئی۔ امیرالمؤمنین! یہ قصہ جو میں نے بیان کیا اللہ کی قسم! صحیح ہے۔ (حیات الحیوان جلد ۲ صفحہ ۱۸۰)
اگرآپ کو یہ واقعہ پسند آیا ہے تو اسکو شئیر ضرور کریں اور اس طرح کے دیگر اسلامی واقعات اور اولیاء اللہ کے حالات و تذکرے آپ ہمارے ویب سائٹ
https://readngrow.online
پر بالکل مفت میں پڑھ سکتے ہیں ۔
تمام اسلامی مواد اور دیگر کیٹگریز کو دیکھنے کے لئے یہ لنک وزٹ کریں
https://readngrow.online/readngrow-categories/
نیز ہم اس ویب سائٹ کی مفید چیزوں کو اس واٹس ایپ چینل پر بھی شئیر کرتے رہتے ہیں ۔
https://whatsapp.com/channel/0029VaviXiKHFxP7rGt5kU1H
یہ چینل فالو کرلیں ۔

