امام ابو زرعہؒ کے آخری لمحات
ان کے انتقال کا واقعہ بھی عجیب ہے، ابو جعفر تستری کہتے ہیں کہ ’’ہم جان کنی کے وقت ان کے پاس حاضر ہوئے اس وقت ابو حاتم، محمد بن مسلم، مندر بن شاذان اور علماء کی ایک جماعت وہاں موجود تھی ان لوگوں کو تلقین میت کی حدیث کا خیال آیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد مبارک ہے ’’لقنوا امواتکم لا الہ الا اللہ‘‘(اپنے مردوں کو لا الہ الا اللہ کی تلقین کیا کرو) مگرابو زرعہؒ سے شرما رہے تھے اور ان کو تلقین کی ہمت نہ ہورہی تھی، آخر سب نے سوچ کر یہ راہ نکالی کہ تلقین کی حدیث کا مذاکرہ کرنا چاہئے، چنانچہ محمد بن مسلم نے ابتداء کی حدثنا الضحاک بن مخلد عن عبدالحمید بن جعفر اور اتنا کہہ کر رک گئے باقی حضرات نے بھی خاموشی اختیار کی، اس پر ابو زرعہ نے اسی جان کنی کے عالم میں روایت کرنا شروع کیا، اور اپنی سند بیان کرنے کے بعد متن اپنی حدیث پر پہنچے۔
من کان آخر کلامہ لا الہ الا اللہ، اتنا ہی کہہ پائے تھے کہ طاہر روح قفس عنصری سے عالم قدسی کی طرف پرواز کرگیا، پوری حدیث یوں ہے ’’من کان آخر کلامہ لا الہ الا اللہ دخل الجنۃ (یعنی جس کی زبان سے آخری الفاظ لا الٰہ الا اللہ نکلے وہ جنت میں داخل ہوگا)۔ (جواہر پارے)
اگرآپ کو یہ واقعہ پسند آیا ہے تو اسکو شئیر ضرور کریں اور اس طرح کے دیگر اسلامی واقعات اور اولیاء اللہ کے حالات و تذکرے آپ ہمارے ویب سائٹ
https://readngrow.online
پر بالکل مفت میں پڑھ سکتے ہیں ۔
تمام اسلامی مواد اور دیگر کیٹگریز کو دیکھنے کے لئے یہ لنک وزٹ کریں
https://readngrow.online/readngrow-categories/
نیز ہم اس ویب سائٹ کی مفید چیزوں کو اس واٹس ایپ چینل پر بھی شئیر کرتے رہتے ہیں ۔
https://whatsapp.com/channel/0029VaviXiKHFxP7rGt5kU1H
یہ چینل فالو کرلیں ۔

