اللہ کی رحمت کا سہارا
حضرت مالک بن دینارؒ کہتے ہیں کہ میرے پڑوس میں ایک شخص رہتا تھا وہ بہت بڑا گنہگار تھا، پڑوسیوں کو اس سے بہت تکلیف تھی، میں نے اس سے ایک دن کہا کہ اس شہر سے نکل جا اور کہیں اور رہنا شروع کردے، کہنے لگا کہ میں ذاتی مکان میں رہتا ہوں اسے چھوڑ کر کیوں جاؤں میں نے کہا کہ تیری شکایت میں بادشاہ سے کردوں گا، اس نے کہا کہ ہم بادشاہ کے دوستوں میں سے ہیں، پھر میں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ سے تیرے حق میں بددعا کرتا ہوں، کہنے لگا کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت بڑی وسیع ہے اور مجھے اپنے اللہ پر مکمل بھروسہ ہے کہ وہ مجھے معاف فرما دیں گے۔مالک بن دینار رحمہ اللہ تعالیٰ کہتے ہیں کہ میں نے ارادہ کر لیا کہ اس کے حق میں بددعا کروں، لیکن پھر میرے دل میں الہام ہوا کہ کوئی کہہ رہا ہے کہ اس آدمی نے اللہ کی رحمت کو سہارا بنایا ہے اور اللہ تعالیٰ معاف کرنے کے لیے ایک سہارا بھی کافی سمجھتے ہیں، چنانچہ میں واپس اس شخص کے پاس آیا اور اپنے دل کا حال اس سے بیان کیا۔اس نے ساری بات سنی اور پھر بے اختیار رونے لگا، کہنے لگا کہ میرا رب مجھے رحمت کی چادر میں ڈھانپنا چاہتا ہے اور میری یہ حالت ہے کہ گناہ پر گناہ کر رہا ہوں اور اپنے پڑوسیوں کو بھی تکلیف دیتا رہتا ہوں، چنانچہ اس نے اپنے برُے اعمال سے توبہ کرلی۔ (مخزن اخلاق)
اگرآپ کو یہ واقعہ پسند آیا ہے تو اسکو شئیر ضرور کریں اور اس طرح کے دیگر اسلامی واقعات اور اولیاء اللہ کے حالات و تذکرے آپ ہمارے ویب سائٹ
https://readngrow.online
پر بالکل مفت میں پڑھ سکتے ہیں ۔
تمام اسلامی مواد اور دیگر کیٹگریز کو دیکھنے کے لئے یہ لنک وزٹ کریں
https://readngrow.online/readngrow-categories/
نیز ہم اس ویب سائٹ کی مفید چیزوں کو اس واٹس ایپ چینل پر بھی شئیر کرتے رہتے ہیں ۔
https://whatsapp.com/channel/0029VaviXiKHFxP7rGt5kU1H
یہ چینل فالو کرلیں ۔

