اصلاح کے لیے طلب اور ہمت کی ضرورت
بسلسلہ ملفوظات حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی نور اللہ مرقدہ
ارشاد فرمایا کہ اصلاح بدون اس خاص طریق اور طرز کے نہیں ہوسکتی جس کو میں نے اختیار کر رکھا ہے ۔ بدون رگڑے کہیں برتن قلعی کے قابل ہوسکتا ہے ۔ مربی بننا آسان نہیں ، پہلے مربابنے تب کہیں مربی ہو۔ مربا جانتے ہی ہو کس طرح بنتا ہے ، اوّل سیب کو بازار سے خرید کر لاتے ہیں ، پھر اس کا چاقو سے چھلکا الگ کرتے ہیں ، پھر اس کو چاقو کی نوک سے کوچتے ہیںاس لیے تاکہ مٹھائی اندر تک اثر کر سکے ، پھر اس کو پانی میں جوش دیتے ہیں ، پھر قوام کرکے اس میں ڈالتے ہیں ، پھر ایک بوتل میں بند کرکے یا مرتبان میں ایک وقت ِ مقرر تک رکھتے ہیں ، جب کہیں مربا بنتا ہے اور اس مرض کے لیے نافع ہوتا ہے جس کے لیے طبیب نے تجویز کیا تھا۔ اب چاہتے یہ ہیں کہ کچھ کرنا دھرنا نہ پڑے اور سب کچھ ہوجائے۔ یاد رکھو کہ بدون ارادہ اور طلب اور ہمت کے تو اگر کوئی لقمہ بنا کر بھی منہ میں دے دے تو وہ بھی حلق سے نیچے نہیں اتر سکتا، اس میں بھی ضرورت ہے ہمت اور طلب کی۔(آداب ِ شیخ و مرید، صفحہ ۵۶)
حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ تعالیٰ کے یہ ملفوظات شیخ و مرید کے باہمی ربط اور آداب سے متعلق ہیں ۔ خود بھی پڑھیں اور دوستوں سے بھی شئیر کریں ۔
مزید ملفوظات پڑھنے کے لئے ہماری ویب سائٹ
https://readngrow.online
اپنے پاس محفوظ کرلیں ۔
اس طرح کے ملفوظات روزانہ اس واٹس ایپ چینل پر بھی بھیجے جاتے ہیں
https://whatsapp.com/channel/0029VaJtUph4yltKCrpkkV0r
چینل جوائن کریں

