اصلاحِ حال کی ایک غلط کوشش
ہمارے نو تعلیم یافتہ روشن خیال مصلحین کی توجہ جب اس باہمی اختلاف کے مہلک نتائج کی طرف جاتی ہے اور اس کے علاج کی فکر ہوتی ہے تو ان کے خیال میں ساری خرابیاں صرف ان اختلافات میں نظر آتی ہیں، جو دین و مذہب کے نام پر سامنے آتے ہیں اور وہ صرف اسی اختلاف کو مٹانے کے لیے علاج سوچتے ہیں، وہ اس وقت ان سب لڑائیوں کو بھول جاتے ہیں جو خالص نفسانی اور ذاتی غرض کے لیے لڑی جا رہی ہیں، جن کے لیے ایک دوسرے کی جان، آبرو اور مال سب کچھ حلال سمجھ لیا جاتا ہے۔۔۔۔ جس کے پیچھے پورے ملک میں باہمی منافرت کے سیلاب امنڈ آتے ہیں۔۔۔۔ مگر ان کو چوں کہ نئی تہذیب و شرافت کا نام دے دیا ہے۔۔۔۔
اس لیے نہ وہ قوم کے لیے کوئی مرض رہا نہ اس کا علاج سوچنے کی ضرورت رہی۔۔۔۔ اختلاف و لڑائی میں صرف ملا ہی بدنام ہے۔۔۔۔ اسی کا علاج زیر غور ہے۔۔۔۔ حالانکہ دین و مذہب کے نام پر جو اختلافات ہیں، اگر غور کیا جائے تو ان کی خرابی صرف حدود سے تجاوز کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔۔۔۔ ورنہ وہ کوئی برادری کا نوتہ نہیں بن سکتے۔۔۔۔ وہ اپنے ذاتی حقوق نہیں جنہیں ایثار کیا جا سکے۔۔۔۔ بلکہ قرآن و سنت کی تعبیر کے اختلافات ہیں۔۔۔۔ جن کو ختم نہیں کیا جا سکتا۔۔۔۔
ہمارے بعض روشن خیال مصلحین نے سارا فساد ان ہی اختلافات میں منحصر سمجھ کر اس کا یہ علاج تجویز کیا کہ فرقہ وارانہ اختلافات کو ہٹا کر سب کا ایک نیا اور مشترک مذہب بنا لیا جائے۔۔۔۔ پوری قوم کا وہی ایک مذہب ہو، تاکہ اختلاف کی بنیاد ہی ختم ہو جائے۔۔۔۔
مگر یہ بات مذہبی مسائل میں عقلاً صحیح ہے نہ عملاً ممکن۔۔۔۔ ہاں خالص دنیوی معاملات جن میں جھگڑا ذاتی حقوق ہی کا ہو، وہاں اپنے اپنے مطالبات کو نظر انداز کر کے ایسی صلح کی جا سکتی ہے۔۔۔۔ اس لیے باہمی جنگ و جدل کا علاج یہ نہیں کہ اختلاف رائے کو مٹا کر سب کو ایک نظرئیے کا پابند کر دیا جائے۔۔۔۔
