اصلاح، اصلاح کے طریقہ سے ہوتی ہے
بسلسلہ ملفوظات حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی نور اللہ مرقدہ
ارشاد فرمایا کہ جس طریق سے میں اصلاح کرنا چاہتا ہوں وہی نافع ہے شرعاً بھی عقلاًبھی۔ لوگ اس سے گھبراتے ہیں ، اس کی بالکل ایسی مثال ہے کہ ناسور ہو اور اوپر سے ٹانکے لگا کر مرہم لگا دیا جائے تو کیا مادہ رک جائے گا ؟ ہرگز نہیں بلکہ کسی اور طرف کو نکلنا شروع ہوجائے گا۔ اصلاح تو اصلاح ہی کے طریق سے ہوتی ہے مگر اب چاہتے یہ ہیں کہ جو ہم چاہیں وہ ہو، دوسرے کا چاہا نہ ہو، اور یہ ناشی ہے خودرائی اور خود بینی سے ۔ اب بتلائیے اصلاح ایسے لوگوں کی کس طرح ہو؟ ہر کام اصول سے ہوسکتا ہے، بے اصول طریق سے کچھ نہیں ہوسکتا۔(آداب ِ شیخ و مرید، صفحہ ۱۷۶)
حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ تعالیٰ کے یہ ملفوظات شیخ و مرید کے باہمی ربط اور آداب سے متعلق ہیں ۔ خود بھی پڑھیں اور دوستوں سے بھی شئیر کریں ۔
مزید ملفوظات پڑھنے کے لئے ہماری ویب سائٹ
https://readngrow.online
اپنے پاس محفوظ کرلیں ۔
اس طرح کے ملفوظات روزانہ اس واٹس ایپ چینل پر بھی بھیجے جاتے ہیں
https://whatsapp.com/channel/0029VaJtUph4yltKCrpkkV0r
چینل جوائن کریں

