از خود بھوکا رہ کر جان دینے کا شرعی حکم
ملفوظاتِ حکیم الامت مجددالملت حضرت مولانا محمد اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ
کسی نے سوال کیا کہ اگر کوئی گرفتار ہوجائے (تو) ان میں سے بعض لوگ جیل خانہ میں مقابلہ جوئی کرتے ہیں یعنی بھوک ہڑتال کرتے ہیں یعنی کھانا نہیں کھاتے یہاں تک کہ مرجاتے ہیں اور قوم میں ان کی تعریف کی جاتی ہے۔ جواب میں ارشاد فرمایا کہ اس کا خودکشی اور حرام ہونا ظاہر ہے۔
قال الله تعالى ولا تقتلوا انفسكم
کتبِ فقہ ہدایہ وغیرہ میں تصریح ہے کہ جان بچانا اس درجہ فرض ہے کہ اگر حالتِ اضطرار میں مرجانے کا اندیشہ ہو اور مردار کھانے سے جان بچ سکتی ہو تو اس کا نہ کھانا اور جان دے دینا معصیت ہے چہ جائیکہ حلال کھانا چھوڑ کر جان دے دینا۔ اور اس فعل کی تعریف کرنے میں تو کفر کا اندیشہ ہے کہ شریعت کی صریح تکذیب ہے کہ شریعت جس کو مذموم کہتی ہے یہ اس کو محمود کہتا ہے۔
نوٹ:- یہ ملفوظات ڈاکٹر فیصل صاحب (خلیفہ عبدالمتین شاہ صاحب دامت برکاتہم العالیہ) نے انتخاب فرمائے ہیں۔ اور انکو حضرت مولانا محمد زبیر صاحب (فاضل جامعہ دارالعلوم الاسلام لاہور 2023) نے تحریر فرمایا ہے ۔
یہ ملفوظات آپ ہماری ویب سائٹ
https://readngrow.online
پر بالکل مفت میں پڑھ سکتے ہیں ۔
براہ مہربانی یہ پوسٹ اپنے واٹس ایپ اور دیگر سوشل میڈیا پر شئیر کریں ۔

