اخلاص کا درس
حضرت مفتی محمد حسن صاحب رحمۃ اﷲ علیہ نے جامعہ اشرفیہ بنایا۔ یہ پہلا جامعہ تھا لاہور میں جو قرآن و حدیث کی تعلیم کے لئے اتنا بڑا جامعہ تھا۔ یہ ابتداء میں ایک چھوٹی سی جگہ تھی، چھوٹی مسجد تھی۔ حضرت نے کام شروع کردیا۔ حضرت مولانا ادریس کاندھلوی رحمۃ اللہ علیہ بہاولپور میں ایک جامعہ میں پڑھاتے تھے۔ حضرت مفتی محمد حسن رحمۃ اللہ علیہ نے ان کو خط لکھا اور خط میں دو فقرے لکھے:۔
’’حضرت! آپ نے اب تک امیروں کی بریانیاں تو کھائی ہیں ہم فقیروں کی دال روٹی بھی قبول کرلیں۔‘‘ یہ خط وہاں پہنچا اور حضرت نے یہ خط پڑھا تو فوراً وہاں استعفیٰ لکھا، اپنا سامان سمیٹا اور کرائے کی گاڑی لے کر سامان سمیت نیلا گنبد پہنچے اور پہنچ کر فرمایا: حضرت! میں حاضر ہوں۔ دین کی خدمت کی نیت ہو تو پھر ایسی کیفیت ہوتی ہے۔ اللہ اکبر کبیرا۔
دیکھیں پھر اللہ نے ان سے کتنا کام لیا؟ معارف القرآن کی ایک تفسیر حضرت مفتی محمد شفیع رحمۃ اللہ علیہ نے لکھی اور دوسری تفسیر حضرت کاندھلوی رحمۃ اللہ علیہ نے لکھی۔ اللہ نے ان کو عجیب علم دیا تھا ان کے پاس بیٹھ کے پتہ چلتا تھا کہ علم کیا ہوتا ہے؟ تو بہر حال وہ تشریف لے آئے اور جامعہ اشرفیہ کے نام سے جامعہ بن گیا۔
اللہ کی شان دیکھیں! کچھ ایسے اساتذہ بھی تھے جن کو پڑھانے کے ساتھ ساتھ سیاست کے ساتھ بھی دلچسپی تھی۔ ان میں سے ایک استاد ایسے بھی تھے جنہوں نے جامعہ اشرفیہ کے قریب ہی ایک اور جامعہ کی بنیاد رکھ دی۔ اس سے بہت سے اساتذہ بھی حیران تھے کہ ایک نئے جامعہ کی بنیاد رکھنے کی کوئی ضرورت تو نہیں تھی۔ اس سلسلے میں مفتی محمد حسن رحمۃ اللہ علیہ کے ایک صاحبزادے نے اپنا ایک واقعہ مجھے سنایا فرمانے لگے: میں کسی کام کے لئے جارہا تھا تو ایسے ہی میں نے اپنے والد صاحب سے کہا: ابا جی! آپ نے دیکھ لیا ہے کہ انہوں نے ہمارے ساتھ کیا کیا؟ ابا جی نے پوچھا: بیٹا! کہاں جا رہے ہو؟ میں نے عرض کیا: امی نے کام بھیجا ہے۔ فرمایا: تم وہ کام کرکے آئو پھر میں آج تمہیں اخلاص کا درس دوں گا۔
جب میں وہ کام کرکے واپس آیا تو بیٹھ گیا اور عرض کیا: ابا جی! اب بتائیں تو والد صاحب نے مجھ سے پوچھا: یہ بتائو کہ اگر تمہارے سر پر کسی چیز کا اتنا بوجھ ہو کہ تم سے اٹھایا نہ جا رہا ہو، حتی کہ گردن ٹوٹنے کے قریب محسوس ہو، تم انتہائی مشقت کے ساتھ وہ بوجھ لے کر جا رہے ہو، اور ایسے وقت میں کوئی دوسرا بندہ آجائے اور یہ کہے کہ تم آدھا بوجھ مجھے دے دو، میں اپنی ذمہ داری سے منزل پر پہنچا دوں گا ، تو اب بتائو کہ وہ تمہارا دوست ہو گا یا دشمن ہوگا؟ میں نے کہا : حضرت! وہ دوست ہو گا۔ تو ابا جی نے فرمایا: دیکھو بیٹا! یہ اتنا بڑا شہر ہے اور اس میں یہ ایک دارالعلوم تھا اوراتنے بڑے شہر کی مسئولیت کا بوجھ صرف ہمارے سر پر تھا، اب ایک دوسرا مدرسہ بن گیا ہے، جس کی وجہ سے ہمارا بوجھ تقسیم ہو گیا ہے۔ اب تم ہی بتائو کہ ان بوجھ تقسیم کرنے والوں کو دوست سمجھیں یا دشمن؟ سبحان اللہ! کتنے بڑے مسئلے کو کتنے پیار سے حل کردیا! سچی بات یہی ہے کہ دین کا کام جہاں بھی ہو رہا ہے اور جس کسی کے ذریعے ہو رہا ہے، وہی بہتر ہے۔(ج 29ص139)
اگرآپ کو یہ واقعہ پسند آیا ہے تو اسکو شئیر ضرور کریں اور اس طرح کے دیگر اسلامی واقعات اور اولیاء اللہ کے حالات و تذکرے آپ ہمارے ویب سائٹ
https://readngrow.online
پر بالکل مفت میں پڑھ سکتے ہیں ۔
تمام اسلامی مواد اور دیگر کیٹگریز کو دیکھنے کے لئے یہ لنک وزٹ کریں
https://readngrow.online/readngrow-categories/
نیز ہم اس ویب سائٹ کی مفید چیزوں کو اس واٹس ایپ چینل پر بھی شئیر کرتے رہتے ہیں ۔
https://whatsapp.com/channel/0029VaviXiKHFxP7rGt5kU1H
یہ چینل فالو کرلیں ۔

