اختلاف رائے

اختلاف رائے

مشائخ لکھتے ہیں اگر کوئی شخص کسی شیخ سے بیعت ہو اور فرض کیجئے کہ اس کی سنت کے خلاف کوئی بات دیکھے اور ارادہ کیا کہ کسی متبع سنت سے بیعت ہوجائے تو مشائخ بالا جماع لکھتے ہیں کہ اس شیخ سے بیعت ترک کردینی چاہئے جس سے سنت کے خلاف اعمال ظاہر ہوتے ہیں لیکن بے ادبی کا کلمہ کبھی نہیں کہنا چاہئے۔۔۔۔ گستاخی کا کلمہ کبھی نہ کہے۔۔۔۔ اس کے حق میں کبھی جائز نہیں کہ اس کی بے ادبی کرتا پھرے۔۔۔۔ ورنہ معنویت اور روحانیت کو نقصان پہنچے گا۔۔۔۔ یہ وہی احترام کی بنیاد ہے۔۔۔۔ کسی عالم سے فرض کیجئے کہ آپ کسی مسئلہ میں مختلف ہوجائیں یا دوسرا عالم آپ سے مختلف ہوجائے تو مسئلہ میں اختلاف کرنا تو جائز ہے۔۔۔۔ جب اپنے کودیانۃ علی التحقیق سمجھے لیکن بے ادبی اور تمسخر کرنا کسی حالت میں جائز نہیں ہے کیونکہ بے ادبی اور تمسخر کرنا دین کا نقصان ہے اور اختلاف کرنا محبت سے یہ عین دین ہے۔۔۔۔
دین جائز ہے اور خلاف دین جائز نہیں۔۔۔۔ اختلاف رائے کا حق حاصل ہے حتی کہ اگر ذاتی رائے اور مشورہ ہو تو انبیاء علیہم السلام سے بھی آدمی رائے میں مختلف ہوسکتا ہے۔۔۔۔ احکام اور اوامر کا جہاں تک تعلق ہے اختلاف اور رائے زنی جائز نہیں۔۔۔۔
حق تعالیٰ کا ارشاد ہے:۔
وَمَا کَانَ لِمُؤْمِنٍ وَّلَا مُؤْمِنَۃٍ اِذَا قَضَی اللّٰہُ وَ رَسُوْلُہٗٓ اَمْرًا اَنْ یَّکُوْنَ لَھُمُ الْخِیَرَۃُ مِنْ اَمْرِھِمْ
(کسی مومن اور مومنہ کیلئے جائز نہیں ہے کہ جب حکم آجائے اللہ اور رسول کا تو پھر اس کے سامنے چون و چرا کی جائے)
تو جہاں تک احکام دین کا تعلق ہے رسول تبلیغ فرما دیں تو تامل بھی جائز نہیں چہ جائیکہ قبول نہ کرے لیکن اگر رسول یہ فرمائیں کہ میری ذاتی رائے یہ ہے اگر آدمی نہ مانے تو اس پر کوئی الزام و ملامت نہیں۔۔۔۔
حدیث میں حضرت بریرہ رضی اللہ عنہا کا واقعہ بیان ہوا۔۔۔۔ یہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی باندی تھیں۔۔۔۔ حضرت مغیث رضی اللہ عنہ سے ان کا نکاح کردیا گیا۔۔۔۔ یہ بھی صحابی رضی اللہ عنہ ہیں۔۔۔۔ بریرہ رضی اللہ عنہا خوبصورت تھیں اور مغیث رضی اللہ عنہ بدصورت‘ حضرت مغیث رضی اللہ عنہ بریرہ رضی اللہ عنہا کے سو جان سے عاشق تھے اور بریرہ رضی اللہ عنہا کو نفرت تھی۔۔۔۔ اس دوران میں یہ واقعہ پیش آیا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بریرہ رضی اللہ عنہا کو آزاد کردیا اور مسئلہ شرعی یہ ہے کہ باندی اور منکوحہ اگر آزاد ہوجائے تو نکاح کا باقی رکھنا نہ رکھنا اس کے اختیار میں ہوجاتا ہے اگر وہ چاہے کہ فلاں شخص غلام ہے تو جائز ہے کہ نکاح فسخ کردے۔۔۔۔
اب حضرت مغیث رضی اللہ عنہ پریشان ہیں وہ سو جان سے عاشق اور بریرہ رضی اللہ عنہا کی طبیعت کو مناسبت نہیں اور بات آگئی حضرت بریرہ رضی اللہ عنہا کے ہاتھ تو لکھا ہے حضرت مغیث رضی اللہ عنہ مدینہ کی گلیوں میں پھر رہے ہیں‘ رورہے ہیں‘ آنسو ڈاڑھی پر گر رہے ہیں اور ہر ایک کے پاس جاتے ہیں کہ تم سفارش کردو کہ بریرہ رضی اللہ عنہا نکاح کو فسح نہ کرے۔۔۔۔ آخر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچے اور کہا یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم)! آپ صلی اللہ علیہ وسلم بریرہ رضی اللہ عنہا کو فرمائیں کہ وہ نکاح نہ توڑے۔۔۔۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور بریرہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا کہ اے بریرہ رضی اللہ عنہا! نکاح کو فسخ مت کرو۔۔۔۔ مغیث کا برا حال ہے۔۔۔۔ اسے محبت اور تعلق ہے مگر بریرہ رضی اللہ عنہا بہت دانش مند تھی۔۔۔۔ عرض کیا یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) یہ حکم شرعی ہے یا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتی رائے ہے؟ فرمایا نہیں مشورہ ہے۔۔۔۔ حکم شرعی نہیں۔۔۔۔
عرض کیا میں تو نہیں مانتی۔۔۔۔ فرمایا تجھے ماننے نہ ماننے کا حق ہے۔۔۔۔ اس سے اندازہ ہوا کہ انبیاء علیہم السلام کی ذاتی رائے سے بھی اختلاف کا حق ہے۔۔۔۔ یعنی کوئی ملامت اس میں نہیں۔۔۔۔ نہ انبیاء کی نہ شریعت کی یہ الگ چیز ہے کہ ادب کی وجہ سے ہم حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے منشاء کو بھی سوحکموں سے زیادہ سمجھیں گے۔۔۔۔
بریرہ رضی اللہ عنہا نے پہلے پوچھ لیا کہ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) یہ حکم خداوندی ہے یا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتی رائے؟
جب معلوم ہوا فرمایا کہ میں نہیں مانتی۔۔۔۔ ذرہ بھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اوپر گرانی نہیں ہوئی۔۔۔۔ لیکن رائے کے نہ ماننے کی وجہ سے کیا یہ جائز تھا کہ بریرہ رضی اللہ عنہا معاذ اللہ‘ ادنیٰ درجہ کی شان رسالت میں بے ادبی کرے۔۔۔۔ اگر ذرہ بھی بے ادبی ہوتی۔۔۔۔ دین ختم ہوجاتا۔۔۔۔ ادب اور عظمت کو اسی طرح برقرار رکھا۔۔۔۔ لیکن شریعت نے جو حق دیا اس کو استعمال کیا کہ یارسول اللہ! میں تو نہیں مانتی۔۔۔۔ یہ میرا خانگی معاملہ ہے اور اگر حکم شرعی ہے تو سرجھکا ہوا ہے۔۔۔۔ اس سے اندازہ ہوا کہ اختلاف رائے اگر اہل اللہ اور علماء میں ہوجائے تو مضائقہ نہیں لیکن بے ادبی یا تذلیل کسی حالت میں جائز نہ ہوگی اس لئے کہ وہ بہر حال عالم دین ہے جس سے آپ اختلاف کرسکتے ہیں مگر اس کا مقام و منصب بطور نائب رسول کے ہے۔۔۔۔ اس کی عظمت و اجب ہوگی۔۔۔۔
ہم امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کی فقہ پر عمل کرتے ہیں۔۔۔۔ امام شافعی رحمہ اللہ پچاسیوں مسئلوں میں ان سے اختلاف کرتے ہیں مگر ادنیٰ درجہ کی بے ادبی قلب میں امام شافعی رحمہ اللہ کی نہیں آتی اور جیسا کہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ واجب التعظیم ہیں۔۔۔۔ ویسے ہی امام شافعی رحمہ اللہ بھی۔۔۔۔ دونوں ماہتاب وآفتاب ہیں۔۔۔۔ دونوں سے نور اور برکت حاصل ہورہی ہے۔۔۔۔ کسی طرح جائز نہیں کہ ادنیٰ درجہ کی گستاخی دل میں آجائے۔۔۔۔

Most Viewed Posts

Latest Posts

اختلاف کی دو قسمیں

اختلاف کی دو قسمیں حکیم الاسلام حضرت مولانا قاری محمد طیب صاحب رحمہ اللہ فرماتے ہیں:۔علماء کرام میں اگر اختلاف ہو جائے تو اختلاف کی حد تک وہ مضر نہیں جب کہ اختلاف حجت پر مبنی ہو ظاہر ہے کہ ایسی حجتی اختلافات میں جو فرو عیاتی ہوں ایک قدرمشترک ضرور ہوتا ہے جس پر فریقین...

read more

اختلاف کا اُصولی حل

اختلاف کا اُصولی حل محترم پروفیسر ڈاکٹر عبدالرئوف صاحب اپنے رسالہ ’’اِسلامی بینکاری‘‘ میں تحریر فرماتے ہیں:مخلص و محقق اور معتبر اکابر علمائے کرام کے درمیان کسی مسئلہ کی تحقیق کے سلسلے میں جب اختلاف ہوجائے تو بزرگ اکابر حضرات رحمہم اﷲ تعالیٰ کے ارشادات میں مکمل...

read more

ایک ڈاکو پیر بن گیا

ایک ڈاکو پیر بن گیا قطب الارشادحضرت مولانا رشید احمد گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ ایک مرتبہ اپنے مریدین سے فرمانے لگے تم کہاں میرے پیچھے لگ گئے۔۔۔۔ میرا حال تو اس پیر جیسا ہے جو حقیقت میں ایک ڈاکو تھا۔۔۔۔ اس ڈاکو نے جب یہ دیکھا کہ لوگ بڑی عقیدت اور محبت کے ساتھ پیروں کے پاس...

read more