اتباعِ سنت کی مثال
ملفوظاتِ حکیم الامت مجدد الملت حضرت مولانا محمد اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ
ارشاد فرمایا کہ حق تعالیٰ شانہ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو گویا ہمارے پاس ایک نمونہ بھیج دیا ہے (جیسا کہ ارشاد ہے : *لقد كان لكم في رسول الله اسوة حسنة*) اور گویا فرمادیا کہ ہم تفصیلاً کہاں تک بیان کریں کہ یہ صفت پیدا کرو، وہ صفت چھوڑ دو۔ ہم ایک نمونہ بھیج دیتے ہیں، ایسے ہی بن جاؤ۔ اپنے اخلاق، عادات، کھانا، پینا، سونا، بیٹھنا، اٹھنا، چلنا پھرنا، وضع ، طرز، انداز، چال ڈھال ایسا ہو جیسا ہمارے محبوب ﷺ کا ہے۔ اگر ایک صفت کی بھی کمی ہوئی تو ہم نمونہ کے موافق نہ ہوئے۔ اس کی ایسی مثال ہے کہ درزی سے ہم کو ایک اچکن سلوانا منظور ہے، ہم نے نمونہ کے واسطے ایک اچکن بھیج دیا کہ ایسا ہی سی لاؤ۔ اب بتلانے کی ضرورت نہیں ہے کہ آستین اس قدر ہوں، سلائی اس طرح کی ہو، اس قدر نیچا ہو۔ وہ سی کر لایا، دیکھا تو اس کے مطابق ہے لیکن ایک آستین بڑھی ہوئی ہے تو اس درزی سے کہا جاوے گا کہ ظالم تیرے پاس ہم نے نمونہ بھیج دیا تھا پھر بھی تو نے اس کے موافق نہیں سیا اور اس اچکن کو ہرگز نمونہ کے موافق نہ کہا جائے گا۔ وہ اچکن اس درزی کے منہ پر ماریں گے اور اس کو سزا دیں گے۔
نوٹ:- یہ ملفوظات ڈاکٹر فیصل صاحب (خلیفہ شیخ الحدیث حضرت مولانا عبدالمتین بن حسین شاہ صاحب دامت برکاتہم العالیہ) نے انتخاب فرمائے ہیں۔ اور انکو حضرت مولانا محمد زبیر صاحب (فاضل جامعہ دارالعلوم الاسلام لاہور 2023) نے تحریر فرمایا ہے ۔
یہ ملفوظات آپ ہماری ویب سائٹ
https://readngrow.online
پر بالکل مفت میں پڑھ سکتے ہیں ۔
براہ مہربانی یہ پوسٹ اپنے واٹس ایپ اور دیگر سوشل میڈیا پر شئیر کریں ۔

