ابراہیم علیہ السلام کو خلیل اللہ کا لقب کیوں ملا؟
ابن ابی حاتم میں ہے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی عادت تھی کہ مہمانوں کے ساتھ کھائیں۔ ایک دن آپ مہمان کی جستجو میں نکلے۔ کوئی نہ ملا‘ واپس آئے‘ گھر میں داخل ہوئے تو دیکھا کہ ایک شخص کھڑا ہوا ہے۔ پوچھا اے اللہ کے بندے! تجھے میرے گھر میں آنے کی اجازت کس نے دی؟ اس نے کہا اس مکان کے حقیقی مالک نے‘ پوچھا تم کون ہو؟ کہا میں ملک الموت ہوں! مجھے اللہ تعالیٰ نے اپنے ایک بندے کے پاس اس لیے بھیجا ہے کہ میں اُسے یہ بشارت سنا دوں کہ خدا نے اُسے اپنا خلیل کرلیا ہے۔ یہ سن کر حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کہا: پھر تو مجھے ضرور بتایئے کہ وہ بزرگ کون ہے؟ خدا کی قسم! گو وہ زمین کے کسی دور کے گوشے میں ہوں‘ میں ضرور ان سے جاکر ملاقات کروں گا ۔ پھر اپنی باقی زندگی ان کے قدموں میں ہی گزاروں گا۔ یہ سن کر حضرت ملک الموت نے کہا: وہ شخص خود آپ ہیں۔ آپ نے پھر دریافت فرمایا: کیا سچ مچ میں ہی ہوں؟ فرشتے نے کہا: ہاں آپ ہی ہیں۔ آپ نے پھر دریافت فرمایا: کہ کیا آپ مجھے یہ بھی بتائیں گے کہ کس بنا پر کن امور پر اللہ تعالیٰ نے مجھے اپنا خلیل بنایا؟ فرشتے نے فرمایا: اس لیے کہ تم ہر ایک کو دیتے رہتے ہو اور کسی سے خود کچھ طلب نہیں کرتے۔
اور روایت میں ہے کہ جب سے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو خلیل خدا کے ممتاز اور مبارک لقب سے خدا نے ملقب کیا تب سے ان کے دل میں اس قدر خوفِ خدا اور ہیبت رب سماگئی کہ ان کے دل کا اُچھلنا دور سے اس طرح سنا جاتا تھا جس طرح فضا میں پرندہ کی پرواز کی آواز۔ (تفسیر ابن کثیر)
اگرآپ کو یہ واقعہ پسند آیا ہے تو اسکو شئیر ضرور کریں اور اس طرح کے دیگر اسلامی واقعات اور اولیاء اللہ کے حالات و تذکرے آپ ہمارے ویب سائٹ
https://readngrow.online
پر بالکل مفت میں پڑھ سکتے ہیں ۔
تمام اسلامی مواد اور دیگر کیٹگریز کو دیکھنے کے لئے یہ لنک وزٹ کریں
https://readngrow.online/readngrow-categories/
نیز ہم اس ویب سائٹ کی مفید چیزوں کو اس واٹس ایپ چینل پر بھی شئیر کرتے رہتے ہیں ۔
https://whatsapp.com/channel/0029VaviXiKHFxP7rGt5kU1H
یہ چینل فالو کرلیں ۔

