آزادیٔ نسواں کا فریب

آزادیٔ نسواں کا فریب (ملفوظات شیخ الاسلام حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی مدظلہ العالی)۔

ارشاد فرمایا کہ جب مغرب میں تمام اخلاقی اقدار سے آزادی کی ہوا چلی تو مرد نے عورت کے گھر میں رہنے کو اپنے لیے دوہری مصیبت سمجھا۔ ایک طرف تو اس کی ہوسناک طبیعت عورت کی کوئی ذمہ داری قبول کیے بغیر قدم قدم پر اس سے لطف اندوز ہونا چاہتی تھی ، اور دوسری طرف وہ اپنی قانونی بیوی کی معاشی کفالت کو بھی ایک بوجھ تصور کرتا تھا۔ چنانچہ اس نے دونوں مشکلات کا جو عیارانہ حل نکالا ، اس کا خوبصورت اور معصوم نام ’’تحریک ِ آزادیٔ نسواں‘‘ ہے۔ عورت کویہ پڑھایا گیا کہ تم اب تک گھر کی چار دیواری میں قید رہی ہو ، اب آزادی کا دور ہے ، اور تمہیں اس قید سے باہر آکر مردوں کے شانہ بشانہ زندگی کے ہرکام میں حصہ لینا چاہئے ۔ اب تک تمہیں حکومت و سیاست کے ایوانوں سے بھی محروم رکھا گیا ہے ، اب تم باہر آکر زندگی کی جدوجہد میں برابر کا حصہ لو تو دنیا بھر کے اعزازات اور اونچے اونچے منصب تمہارا انتظار کررہے ہیں ۔
عورت بیچاری ان دلفریب نعروں سے متاثر ہوکر گھر سے باہر آگئی اور پروپیگنڈے کے تمام وسائل کے ذریعے شور مچامچا کر اسے یہ باور کرادیا گیا کہ اسے صدیوں کی غلامی کے بعد آج آزادی ملی ہے ، اور اب اس کے رنج و محن کا خاتمہ ہوگیا ہے ۔ ان دلفریب نعروں کی آڑ میں عورت کو گھسیٹ کر سڑکوں پر لایا گیا ، اسے دفتوں میں کلرکی عطا کی گئی، اسے اجنبی مردوں کی پرائیوٹ سیکریٹری کا ’’منصب‘‘ بخشا گیا، اسے ’’اسٹینو ٹائپسٹ‘‘ بننے کا اعزاز دیا گیا۔ اسے تجارت چمکانے کے لیے ’’سیلز گرل‘‘ اور ’’ماڈل گرل‘‘ بننے کا شرف بخشا گیا اور اس کے ایک ایک عضو کو بر سر بازار رسوا کرکے گاہکوں کو دعوت دی گئی کہ آؤ اور ہم سے مال خریدو ۔ یہاں تک کہ وہ عورت جس کے سر پر دین ِ فطرت نے عزت و آبرو کا تاج رکھا تھا اور جس کے گلے میں عفت و عصمت کے ہار ڈالے تھے ، تجارتی اداروں کے لیے ایک شو پیس اور مرد کی تھکن دور کرنے کے لیے ایک تفریح کا سامان بن کر رہ گئی۔

۔(اصلاحی خطبات، جلد۱، صفحہ ۱۴۴)۔

یہ ملفوظات حضرت ڈاکٹر فیصل صاحب نے انتخاب فرمائے ہیں ۔

شیخ الاسلام حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی صاحب کے ملفوظات اور تعلیمات پڑھنے کے لئے یہ لنک وزٹ کریں:۔
https://readngrow.online/category/mufti-taqi-usmani-words/

Most Viewed Posts

Latest Posts

اَسلاف میں تقلیدِ معین عام تھی

اَسلاف میں تقلیدِ معین عام تھی چنانچہ سلف سے لے کر خلف تک اختلافی مسائل میں ایسے ہی جامع افراد کی تقلیدِ معین بطور دستور العمل کے شائع ذائع رہی ہے اور قرنِ صحابہ ہی سے اس کا وجود شروع ہوگیا تھا۔ مثلاً حدیث حذیفہ میں جس کو ترمذی نے روایت کیا ہے، ارشادِ نبوی ہے:انی...

read more

اَسلاف بیزاری ، عدمِ تقلید یا ایک وقت ایک سے زیادہ آئمہ کی تقلید کرلینے کے چند مفاسد

اَسلاف بیزاری ، عدمِ تقلید یا ایک وقت ایک سے زیادہ آئمہ کی تقلید کرلینے کے چند مفاسد حکیم الاسلام قاری محمد طیب صاحب رحمہ اللہ اپنے رسالہ ’’اجتہاد و تقلید‘‘ کے آخر میں تحریر فرماتے ہیں:۔۔۔۔۔ساتھ ہی اس پر غور کیجئے کہ اس ہرجائی پن اور نقیضین میں دائر رہنے کی عادت کا...

read more

سبع سنابل سے ماخوذاربعۃ انہار

سبع سنابل سے ماخوذاربعۃ انہار غور کیا جائے تو شرعی اصطلاح میں ان ساتوں سنابل کا خلاصہ چار ارکان:۔۔ 1ایمان 2اسلام 3احسان 4 اور اعلاء کلمۃ اللہ ہیںجو حقیقتاً انہارِ اربعہ ہیں۔ ’’نہران ظاہران و نہران باطنان‘‘ ایمان و احسان باطنی نہریں ہیں اور اسلام و اعلاء کلمۃ اللہ...

read more