آخری امتحان
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے منقول ہے کہ جب میت کو قبر میں رکھ دیا جاتا ہے تو اس کے پاس دو فرشتے آتے ہیں جن کا رنگ بہت ہی سیاہ اور آنکھیں بالکل نیلی ہوتی ہیں۔۔۔ ان میں سے ایک کو منکر اور دوسرے کو نکیر کہا جاتا ہے۔۔۔ وہ دونوں اس سے پوچھتے ہیں کہ دُنیا میں تیرا دین کیا تھا اگر وہ مؤمن ہوتا ہے تو فوراً بتا دیتا ہے کہ میرا دین اسلام تھا۔۔۔ اس کے بعد رب کے متعلق سوال ہوتا ہے، اس کا بھی وہ ٹھیک ٹھیک جواب دیتا ہے۔۔۔
پھر وہ پوچھتے ہیں کہ ان صاحب (آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم) کے بارے میں کیا کہتا ہے؟ تو وہ جواب دیتا ہے کہ وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، ہمیں یقین ہے کہ وہ اللہ کے بندے اور سچے رسول ہیں۔۔۔ یہ سب سن کر وہ دونوں کہہ اُٹھتے ہیں کہ ہمیں پہلے ہی سے یقین تھا کہ تو ایسے ہی جوابات دے گا۔۔۔
اس کے بعد اس کی قبر ستر ہاتھ مربع کشادہ اور نور سے لبریز کردی جاتی ہے اور زبانی تلقین کی جاتی ہے کہ اب خوب مزے سے سو جاؤ جیسے دُلہن سوتی ہے اور پھر قیامت تک راحت ہی راحت سے ہم آغوشی ہو جاتی ہے۔۔۔
اور اگر کہیں مرنے والا منافق یا کافر ہو تو وہ منکر نکیر کے کسی سوال کا بھی جواب ٹھیک نہیں دے سکے گا اور فرشتے کہیں گے کہ ہم پہلے ہی سے تیرے ان جوابوں سے واقف تھے۔۔۔ اس کے بعد زمین سے کہا جاتا ہے کہ اسے زور سے رکھ کے دباوے۔۔۔ چنانچہ زمین اسے فوراً دبالیتی ہے اور وہ وبال اتنا سخت ہوتا ہے کہ ساری ہڈیاں، پسلیاں اِدھر کی اُدھر ہو جاتی ہیں اور پھر وہ قیامت تک عذاب ہی میں گرفتار رہتا ہے۔۔۔ (ترمذی)
اگرآپ کو یہ واقعہ پسند آیا ہے تو اسکو شئیر ضرور کریں اور اس طرح کے دیگر اسلامی واقعات اور اولیاء اللہ کے حالات و تذکرے آپ ہمارے ویب سائٹ
https://readngrow.online
پر بالکل مفت میں پڑھ سکتے ہیں ۔
تمام اسلامی مواد اور دیگر کیٹگریز کو دیکھنے کے لئے یہ لنک وزٹ کریں
https://readngrow.online/readngrow-categories/
نیز ہم اس ویب سائٹ کی مفید چیزوں کو اس واٹس ایپ چینل پر بھی شئیر کرتے رہتے ہیں ۔
https://whatsapp.com/channel/0029VaviXiKHFxP7rGt5kU1H
یہ چینل فالو کرلیں ۔

